6 اشعار

دشت و دریا سے بھی کچھ ملنا ملانا ہوا ہے

Dasht o darya se bhi kuchh milna milana hua hai

دشت و دریا سے بھی کچھ ملنا ملانا ہوا ہے

«دشت و دریا سے بھی کچھ ملنا ملانا ہوا ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

دشت و دریا سے بھی کچھ ملنا ملانا ہوا ہےجیسے جیسے مرا آئینہ پرانا ہوا ہے

دل تک آنے کا ہمیں اذن کہاں تھا پہلےآپ آئے ہیں تو کچھ دیر کو آنا ہوا ہے

تیری آواز ہو اس دل میں کہ خاموشی ہوسلسلہ جو بھی ترے ساتھ ہے مانا ہوا ہے

ہجر اور وصل ترے آنے سے پہلے بھی تو تھےتیرا آنا تو فقط ایک بہانہ ہوا ہے

تو بھی چلتا تو وہاں تک نہیں جاتا شایدتیری آنکھوں میں جہاں تک مرا جانا ہوا ہے

یہ سنا سکتے ہیں تاریخ سفر کی ساریان درختوں کو یہاں آئے زمانہ ہوا ہے

— شاہین عباس