6 اشعار

نظر سے خاص تھی جو شعلگی وہ عام ہوئی

Nazar se khaas thi jo shola'gi woh aam hui

نظر سے خاص تھی جو شعلگی وہ عام ہوئی

«نظر سے خاص تھی جو شعلگی وہ عام ہوئی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

نظر سے خاص تھی جو شعلگی وہ عام ہوئیکہاں کی آب و ہوا کس سفر کے نام ہوئی

میں جیسے رک سا گیا پھر کنارۂ جاں پروہ لہر جب مری آنکھوں سے ہم کلام ہوئی

یہ خواب جیسے کسی ساعت دگر کے ہیں خوابیہ شام اپنے قرینے میں ایسی شام ہوئی

میں دل کی اوٹ سے سب سن رہا تھا اور چپ تھانواح جاں میں یہ کیسی ندا تمام ہوئی

یہ روشنی کہ جسے لکھ رہا ہوں نغمۂ نورمجھی میں نظم ہوئی نظم بھی مدام ہوئی

غروب مہر نے خوابوں کو راہ دی آخردیار دل میں بہت دن کے بعد شام ہوئی

— شاہین عباس