7 اشعار

یاد کرنے پہ بھی اب یاد نہ آنا دل کا

Yaad karne pe bhi ab yaad na aana dil ka

یاد کرنے پہ بھی اب یاد نہ آنا دل کا

«یاد کرنے پہ بھی اب یاد نہ آنا دل کا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

یاد کرنے پہ بھی اب یاد نہ آنا دل کاجا چکا جیسے مرے دل سے زمانہ دل کا

دیکھ اس دل میں اضافی در و دیوار نہ رکھکہیں تقسیم نہ ہو جائے گھرانا دل کا

بندش چشم ہٹا کر بھی ہوا دی ہم نےپھر بھی اس جست پہ دریا نہیں مانا دل کا

سیر دنیا پہ بھی نکلے تو کس انداز کے ساتھدشت و دریا کو بھی اک سلسلہ جانا دل کا

اور اگر ہو بھی تو اپنے کسی مصرف کا نہیںخواب سے بیش نہ ہو پائے خزانہ دل کا

چلنا پڑتا ہے محبت کی سی رفتار کے ساتھآپ چل کر نہیں آ جاتا زمانہ دل کا

یہ دیا جانے کہاں منظر جاں سے ہٹ جائےاب ہوا باندھ کے چلتی ہے نشانہ دل کا

— شاہین عباس