7 اشعار

دیوار کے پیچھے نہیں دیوار کے اندر ہوں میں

Deewar ke pichhe nahin deewar ke andar hoon main

دیوار کے پیچھے نہیں دیوار کے اندر ہوں میں

«دیوار کے پیچھے نہیں دیوار کے اندر ہوں میں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

دیوار کے پیچھے نہیں دیوار کے اندر ہوں میںجس غار کے باہر ہو تم اس غار کے اندر ہوں میں

موجودگی آخر کو ناموجودگی ثابت ہوئیکچھ دن غلط سمجھا گیا بازار کے اندر ہوں میں

اب ہر قدم اک شور ہوں مچتا ہوا سر بند شوراب ہر طرح رنگ و رم و رفتار کے اندر ہوں میں

اعمال دیکھوں تو ترے میداں سے باہر بھاگ جاؤںاحوال دیکھا ہے سو تیرے وار کے اندر ہوں میں

تکرار آپس میں یہ دن اور رات کرتے ہیں کریںتکرار میں کیا دخل دوں تکرار کے اندر ہوں میں

اس خاک کا پیچھا نہ چھوڑ اس خون کا دامن نچوڑتلوار سے باہر بلا تلوار کے اندر ہوں میں

کچھ کچھ یہ سر اور پاؤں باہر ہیں سو ان کی فکر ہےباقی کا سارا اس گریباں زار کے اندر ہوں میں

— شاہین عباس