7 اشعار

اس شام کے مٹ جائیں گے آثار کسی دن

Is shaam ke miT jaayenge aasaar kisi din

اس شام کے مٹ جائیں گے آثار کسی دن

«اس شام کے مٹ جائیں گے آثار کسی دن» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

اس شام کے مٹ جائیں گے آثار کسی دنکچھ خواب کہ ہو جائیں گے بے کار کسی دن

گرتی ہوئی دیوار سے دل ایسے ملا ہےمیں آپ بھی ہو سکتا ہوں مسمار کسی دن

اس پار سے جو پھول مرے ساتھ بہے تھےاتریں گے مرے ساتھ ہی اس پار کسی دن

خاموش تجھے دیکھ کے خاموش ہوا ہوںآخر کو تو ہونا تھی یہ تکرار کسی دن

مرضی نہ مری پوچھ کرید اتنا نہ مجھ کوتجھ سے بھی نہ کر بیٹھوں میں انکار کسی دن

کس شام جدائی نے پکڑ رکھا ہے دل کوبولیں تو مرے ثابت و سیار کسی دن

رکھنا ہی پڑے گا ہمیں دیوار کا دل بھیہو جائیں گے ہم نقش بہ دیوار کسی دن

— شاہین عباس