12 اشعار

مرے بننے سے کیا کیا بن رہا تھا

Mere banne se kya kya ban raha tha

مرے بننے سے کیا کیا بن رہا تھا

«مرے بننے سے کیا کیا بن رہا تھا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

مرے بننے سے کیا کیا بن رہا تھامیں بننے کو اکیلا بن رہا تھا

اور اب جب تن چکا تو شرم آئیکئی دن سے یہ پردہ بن رہا تھا

زیادہ ہو رہی تھیں دو سرائیںمیں پھر محفل کا حصہ بن رہا تھا

قیامت اور قیامت پر قیامتمیں خوش تھا میرا حلقہ بن رہا تھا

فلک مٹ سا گیا حد نظر تکستارہ ہی اک ایسا بن رہا تھا

نشیب شہر تھا یوں روز افزوںمیان شہر زینہ بن رہا تھا

خرابی میں یہ خم آیا اچانکخرابہ اچھا خاصا بن رہا تھا

میں آدھا جسم جا بیٹھا وہیں پرجہاں باقی کا آدھا بن رہا تھا

اور اب جب کچھ نہ بن پایا تو بولےیہی تو تھا جو کب کا بن رہا تھا

اداکاری نمو داری تھی یکسرمیں ناموجود کتنا بن رہا تھا

ٹھہر جانا ضرورت سے تھا یعنیگزر جانے کا لمحہ بن رہا تھا

مجھے آسان تھا ہونا نہ ہونازمانہ مٹ رہا تھا بن رہا تھا

— شاہین عباس