7 اشعار

دن بھر کے بعد چلئے تو کچھ دیر گھر کو بھی

Din bhar ke baad chaliye to kuch der ghar ko bhi

دن بھر کے بعد چلئے تو کچھ دیر گھر کو بھی

«دن بھر کے بعد چلئے تو کچھ دیر گھر کو بھی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

دن بھر کے بعد چلئے تو کچھ دیر گھر کو بھیآرام کرنے دیجے گرد سفر کو بھی

کار رفو نے مجھ کو کہیں کا نہیں رکھاافسوس سی چکا ہوں میں زخم ہنر کو بھی

گو سر بسر ندا ہی ندا ہے مگر یہ دلمخبر کو بھی سنبھالے ہوئے ہے خبر کو بھی

حلقہ بڑھا رہا ہوں کچھ اپنے ہی خواب کاآباد کر رہا ہوں میں تیری نظر کو بھی

کچھ یوں بھی رنگ لایا میں رنگوں کی اوٹ میںمجھ سے حجاب آیا مرے نقش گر کو بھی

یہ دیکھ میرا در مری دیوار میرے طاقمیں گھر ہی جانتا ہوں تری رہ گزر کو بھی

گو ابتدائے وقت سے پہلے کا فرد ہوںدریافت کر چکا ہوں میں شام و سحر کو بھی

— شاہین عباس