7 اشعار

دن ڈھل چکا ہے اور وہی نقشہ ہے دھوپ کا

Din dhal chuka hai aur wahi naqsha hai dhoop ka

دن ڈھل چکا ہے اور وہی نقشہ ہے دھوپ کا

«دن ڈھل چکا ہے اور وہی نقشہ ہے دھوپ کا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ ہے۔

دن ڈھل چکا ہے اور وہی نقشہ ہے دھوپ کایہ شغل خودنمائی بھی اچھا ہے دھوپ کا

پردے پہ آنکھ کے جو ستارہ تھا بجھ گیاکردار اس کہانی میں کیا کیا ہے دھوپ کا

دو ایک بول ڈوبتے سورج کی ضو پہ بھییہ آخری ورق ابھی سادہ ہے دھوپ کا

اک لہر جاگ اٹھتی ہے اس دل میں صبح دمجس پر سفینہ تیرتا رہتا ہے دھوپ کا

تصویر دن کی چھوڑ بھی سکتے ہیں ناتمامپیمانہ ہم سے کھو بھی تو سکتا ہے دھوپ کا

یہ آنکھ دم بدم کسی لو کے اثر میں ہےاس آئنے پہ بھی ہمیں دھوکہ ہے دھوپ کا

کچھ دوڑ دھوپ اور بھی دل کی زمین پراس رخ پہ موجزن ابھی دریا ہے دھوپ کا

— شاہین عباس