7 اشعار

دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھی

Diya jalta na tha to shaam bhi hoti nahin thi

دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھی

«دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھیوہی رہتی تھی خاموشی نئی ہوتی نہیں تھی

اچانک مصرعۂ جاں سے بر آمد ہونے والےکہاں ہوتا تھا تو جب شاعری ہوتی نہیں تھی

ہم ایسی روشنی میں رہ چکے ہیں جو سرا سرتمہاری ہوتی تھی پر تم نے کی ہوتی نہیں تھی

کہو تو گفتگو سناؤں تم کو ان دنوں کیہمارے درمیاں جب بات بھی ہوتی نہیں تھی

ہنسی ہوتی تھی پر کرنے کو گریے کی جگہ بھیہنسی ہوتی تھی یا شاید ہنسی ہوتی نہیں تھی

دکھانا پڑتا تھا شعلہ اسے جب تو نہیں تھادیے کو دیکھنے سے روشنی ہوتی نہیں تھی

گھروں سے ہو کے آتے جاتے تھے ہم اپنے گھر میںگلی کا پوچھتے کیا ہو گلی ہوتی نہیں تھی

— شاہین عباس