6 اشعار

دیے کا کام اب آنکھیں دکھانا رہ گیا ہے

Diye ka kaam ab aankhen dikhana rah gaya hai

دیے کا کام اب آنکھیں دکھانا رہ گیا ہے

«دیے کا کام اب آنکھیں دکھانا رہ گیا ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

دیے کا کام اب آنکھیں دکھانا رہ گیا ہےیہ سیدھا جل چکا الٹا جلانا رہ گیا ہے

ہمیں سامان پورا کر نہیں پائے کہ چلتےسو رہتے رہتے اس جنگل سے جانا رہ گیا ہے

سر کوہ ندا یہ پہلی پہلی خامشی ہےکوئی آواز ہے جس کا لگانا رہ گیا ہے

یہ دو بازو ہیں سو تھوڑی ہیں کھولوں اور بتا دوںمرے اطراف میں کس کس کا آنا رہ گیا ہے

کماں داروں کا جشن اس رات ابھی بنتا نہیں تھامیں کہتا رہ گیا میرا نشانہ رہ گیا ہے

سڑک پر پھول ایک آیا پڑا ہے اور مسافرکئی ایسے ہیں جن کا آنا جانا رہ گیا ہے

— شاہین عباس