8 اشعار

دو آنکھوں سے نمٹائی ہے منظر کی اداسی

Do aankhon se nimTāī hai manzar kī udaasī

دو آنکھوں سے نمٹائی ہے منظر کی اداسی

«دو آنکھوں سے نمٹائی ہے منظر کی اداسی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

دو آنکھوں سے نمٹائی ہے منظر کی اداسییہ ساری زمیں بھر کی زماں بھر کی اداسی

آخر در و دیوار کے آنسو نکل آئےہم کو نظر آتی ہی نہ تھی گھر کی اداسی

ہم کون ہیں جو رنج میں پھر ایک ہوئے ہیںاے میری اداسی کے برابر کی اداسی

اندر سے ہم آئے تھے اداس آئے تھے باہرتب جا کے مکمل ہوئی باہر کی اداسی

پتھر پہ بنا دی گئی تصویر ہمارییعنی کہ بڑھا دی گئی پتھر کی اداسی

اک شام میں ڈھلتے ہوئے سایوں پہ ہنسا تھااب تک نہیں نکلی مرے اندر کی اداسی

جاگا ہوں تو خوش ہونے کی کوشش میں ہوں افسوسبستر ہی میں چھوڑ آیا ہوں بستر کی اداسی

میں سیڑھیاں چڑھتا چلا جاتا ہوں کہ جا لوںاوپر کی وہ تنہائی وہ اوپر کی اداسی

— شاہین عباس