6 اشعار

ڈوب کر ابھرے ہیں کس زخم کی گہرائی میں ہم

Doob kar ubhre haiñ kis zaḳhm kī gahrāī meñ ham

ڈوب کر ابھرے ہیں کس زخم کی گہرائی میں ہم

«ڈوب کر ابھرے ہیں کس زخم کی گہرائی میں ہم» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

ڈوب کر ابھرے ہیں کس زخم کی گہرائی میں ہمکوئی ثانی ہی نہیں رکھتے خود آرائی میں ہم

یہ مصور کا تقاضہ تھا کہ تصویر کا تھانظر آتے رہے آئینۂ تنہائی میں ہم

منزل جاں کو ہٹاؤ اسے رستے میں نہ لاؤابھی مصروف ہیں کچھ سلسلہ پیمائی میں ہم

یہ چراغ اور یہ خواب آنکھ کا حصہ تو نہ تھےپھر بھی ذم کرتے چلے جاتے ہیں بینائی میں ہم

ہاتھ قرطاس پہ اٹھتے ہیں تو گرد اڑتی ہےکہاں آ نکلے ہیں اس حاشیہ آرائی میں ہم

اشک اندر کبھی دیکھا بھی ہے پیدا ہوتےآ تجھے لے چلیں اس موج کی گہرائی میں ہم

— شاہین عباس