6 اشعار

گھر گھر ہمیں قیام بھی آئے سفر بھی آئے

Ghar ghar humein qayam bhi aaye safar bhi aaye

گھر گھر ہمیں قیام بھی آئے سفر بھی آئے

«گھر گھر ہمیں قیام بھی آئے سفر بھی آئے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

گھر گھر ہمیں قیام بھی آئے سفر بھی آئےہم شام شام کرتے تھے اور شام کر بھی آئے

ایسا تو ہے کہ گھر کو چلا گھر بھی چل پڑاایسا بھی کیا کہ گھر کو چلوں اور گھر بھی آئے

تیار رہنا چاہیئے اے خاک خال خالجھونکا ادھر سے چل پڑا شاید ادھر بھی آئے

دیوار سے عذاب ٹلا کیا پتہ چلاایک اشتہار خالی کیا ایک بھر بھی آئے

پھر دیر ہو رہی تھی میں آ کے نکل گیاکچھ دور تک تو ساتھ مرے خیر و شر بھی آئے

تاریخ جانتے ہیں مگر مانتے نہیںہم جب سے دیکھتے ہیں وہ تب سے نظر بھی آئے

— شاہین عباس