7 اشعار

کسی بھی دشت نے ایسا نہیں گزارا دن

Kisi bhi dasht ne aisa nahin guzara din

کسی بھی دشت نے ایسا نہیں گزارا دن

«کسی بھی دشت نے ایسا نہیں گزارا دن» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

کسی بھی دشت نے ایسا نہیں گزارا دنہماری دھوپ سفر میں ہے سارا سارا دن

یہ مسئلہ ابھی دریا سے طے نہیں ہو گاکہیں پہ شام کنارہ کہیں کنارہ دن

گزر گیا تری آنکھوں میں شام ہوتے ہیگزارے سے جو گزرتا نہ تھا ہمارا دن

ہمارا کچھ بھی نہیں دل کی دھوپ چھانو میںیہ رات رات تمہاری یہ دن تمہارا دن

چلا ہے ٹھہرا ہوا خامشی کا سایہ پھرڈھلا ہے عالم آواز میں دوبارہ دن

ہماری چشم سے بڑھ کر نہیں ہماری شامہمارے دل کے علاوہ نہیں ہمارا دن

طلوع اور غروب ایک ہو گئے دل میںکسی نے شام گزاری کہ یاں گزارہ دن

— شاہین عباس