6 اشعار

گھر گھر کی شناخت کر رہا ہوں

Ghar ghar ki shanakht kar raha hoon

گھر گھر کی شناخت کر رہا ہوں

«گھر گھر کی شناخت کر رہا ہوں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

گھر گھر کی شناخت کر رہا ہوںمیں بند گلی میں مر رہا ہوں

ہر رنگ کے اڑ رہے ہیں چھینٹےتصویر میں سے گزر رہا ہوں

آ تجھ کو بھی کام سے لگا دوںمیں اپنے خلا کو بھر رہا ہوں

میں بات بدل بدل کے اپنیاک ظلم تو عام کر رہا ہوں

موجود کہ خوش نہیں ہے مجھ سےمیں پچھلے حساب کر رہا ہوں

اب وقت کو مارتا ہوا میںتاریخ میں سے گزر رہا ہوں

— شاہین عباس