6 اشعار

ہجر و ہجرت کے ہوئے وعدہ و وصلت کے ہوئے

Hijr o hijrat ke hue wada o waslat ke hue

ہجر و ہجرت کے ہوئے وعدہ و وصلت کے ہوئے

«ہجر و ہجرت کے ہوئے وعدہ و وصلت کے ہوئے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

ہجر و ہجرت کے ہوئے وعدہ و وصلت کے ہوئےشکر ہے ہم بھی کسی شور و شکایت کے ہوئے

اس سے آگے بھی تو تصویر کو وسعت دی جائےیہ تو سب نقش مری جان ضرورت کے ہوئے

ہم سے کم شغل بس اب کھیل سے باہر ہو جائیںجو نہ وحدت کے ہوئے اور نہ کثرت کے ہوئے

اپنے احوال ہی ایسے تھے نہ آثار ایسےکسی حالت کا تو ہونا تھا سو حیرت کے ہوئے

اب سلامت نہیں ملتے مجھے تاریخ کے لوگاتنے ٹکڑے مرے ہاتھوں سے روایت کے ہوئے

اتنے کم وقتوں میں کم دشتوں میں کم وصفوں میںہم پہ انعام جو ہو سکتے تھے وحشت کے ہوئے

— شاہین عباس