8 اشعار

گزرے نہیں اور گزر گئے ہم

Guzre nahin aur guzar gaye hum

گزرے نہیں اور گزر گئے ہم

«گزرے نہیں اور گزر گئے ہم» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

گزرے نہیں اور گزر گئے ہماس بھیڑ کا کام کر گئے ہم

یہ صحن گواہ ہے ہمارااس گھر میں بھی در بہ در گئے ہم

دریافت کو زخم کی چلے تھےتاریخ کی دھار پر گئے ہم

اس بات پہ اب الجھ رہے ہیںباقی تھے تو پھر کدھر گئے ہم

تصویر سے باہر آئے کچھ دیرگھر بھر کو اداس کر گئے ہم

ورنہ یہ زمین مٹ چلی تھیبر وقت ادھر ادھر گئے ہم

خالی تھے اور اس قدر تھے خالیبس ایک نگہ سے بھر گئے ہم

تھے کون و مکاں مکاں سے باہرباہر کسی شور پر گئے ہم

— شاہین عباس