9 اشعار

میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہوا

Main hua tera maajra tu mera maajra hua

میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہوا

«میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہوا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہواوقت یونہی گزر گیا وقت کے بعد کیا ہوا

کیسا گزشتہ دن تھا جو پھر سے گزارنا پڑادھوپ بھی تھی بچی ہوئی سایا بھی تھا بچا ہوا

صبح کے ساتھ جائے کون شام کو لے کے آئے کونرات کا گھر بسائے کون ہے کوئی جاگتا ہوا

ایک مکاں میں کچھ ہوا بات سنی نہ جا سکیلوگ گلی گلی سے اب پوچھ رہے ہیں کیا ہوا

پکڑا گیا تھا کیا کروں شوق تھا یہ گڑھا بھروںصبح طلوع کا ہوا شام غروب کا ہوا

صحن میں چارپائی پر بیٹھا ہوا ہوں دیر سےلمحوں کا مسئلہ ہوں اور صدیوں سے ہوں ملا ہوا

ایسے میں بھی عجب نہیں جی سکوں اور مر سکوںاپنے خراب و خوب کا حیرتی ہوں تو کیا ہوا

یوں ہی تو چپ نہیں ہوں میں کوئی تو بات ہے ضروریہ جو قضا ہوا ہے خواب سجدہ تھا جو قضا ہوا

اور میں باقی رہ گیا باتیں بنانے کے لیےمیری طرح کا ایک شخص تیرے لیے فنا ہوا

— شاہین عباس