5 اشعار

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو

Subah wafa se hijr ka lamha judaa karo

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو

«صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرومنزل سے گرد، گرد سے رستہ جدا کرو

اک نقش ہو نہ پائے ادھر سے ادھر مراجیسا تمہیں ملا تھا میں ویسا جدا کرو

شب زادگاں! تم اہل خبر سے نہیں سو تم!اپنا مدار اپنا مدینہ جدا کرو

یاں پے بہ پے جو خواب کھلے نے بہ نے کھلےجتنا جدا یہ ہو سکے اتنا جدا کرو

میں تھا کہ اپنے آپ میں خالی سا ہو گیااس نے تو کہہ دیا مرا حصہ جدا کرو

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں