7 اشعار

ہر نفس جلتا چلا جائے پگھلتا چلا جائے

Har nafas jalta chala jaae pighalta chala jaae

ہر نفس جلتا چلا جائے پگھلتا چلا جائے

«ہر نفس جلتا چلا جائے پگھلتا چلا جائے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

ہر نفس جلتا چلا جائے پگھلتا چلا جائےقافلہ دل کا تری اوٹ میں چلتا چلا جائے

روشنی پیش نظر ہو مگر اتنی بھی نہ ہوآدمی آگ کے سانچے میں ہی ڈھلتا چلا جائے

زخم تنہائی برا یوں بھی نہیں ہے لیکناور اچھا ہے اگر پھولتا پھلتا چلا جائے

اب ذرا کار محبت سے مفر کوئی گھڑیآخر اس موج میں کب تک کوئی چلتا چلا جائے

تری پلکوں کی منڈیروں سے اترتی ہوئی دھوپدن برابر مرے اندر کہیں ڈھلتا چلا جائے

زخم بھر جانے کو ہے اور یہ موڑ ایسا ہےجہاں کردار کہانی سے نکلتا چلا جائے

دل کسی اور ٹھکانے کا دیا ہے شاہینؔیہ کسی اور زمانے میں نہ جلتا چلا جائے

— شاہین عباس