7 اشعار

کیسا منظر تھا کہ پس منظر میں رہ جاتا رہا

Kaisa manzar tha ke pas-e-manzar mein reh jata raha

کیسا منظر تھا کہ پس منظر میں رہ جاتا رہا

«کیسا منظر تھا کہ پس منظر میں رہ جاتا رہا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

کیسا منظر تھا کہ پس منظر میں رہ جاتا رہااندر اندر جانے مجھ کو کون مہکاتا رہا

خاک اڑاتے دشت دل میں تم بھی اوجھل ہو گئےآخر اس نقش کف پا سے بھی میں جاتا رہا

وہ بھی کیا دن تھے کہ جس جس موج پر پڑتا تھا پاؤںخود کنارے تک سمندر چھوڑنے آتا رہا

راکھ سچی تھی تبھی تو سر اٹھا کر چل پڑیشعلہ جھوٹا تھا دلوں کے بیچ بل کھاتا رہا

ہر زمانہ میں رہی اپنے زمانہ کی تلاشمیں بساط وقت پر آتا رہا جاتا رہا

میں نے دل سے دور ہٹ کر اک صدا کی تھی مگردیر تک یہ دشت میرے حرف دہراتا رہا

عشق آخر عشق تھا جیسا بھی تھا جتنا بھی تھاسر زمین دل پہ اک پرچم تو لہراتا رہا

— شاہین عباس