6 اشعار

عشق نا عشق ہوا ذکر میں کم ہوتے ہوئے

Ishq nā ishq huā zikr mein kam hote hue

عشق نا عشق ہوا ذکر میں کم ہوتے ہوئے

«عشق نا عشق ہوا ذکر میں کم ہوتے ہوئے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

عشق نا عشق ہوا ذکر میں کم ہوتے ہوئےہم سے کچھ بھی نہ ہوا آنکھ میں نم ہوتے ہوئے

انگلیاں خاک میں اب پھیر رہے ہیں افسوسبات نمٹا نہ سکے لوح و قلم ہوتے ہوئے

سامنے بیٹھے ہوئے شخص سے کیجے انصافآئنہ دیکھیے آئینے میں ضم ہوتے ہوئے

آگے معلوم نہیں راستہ ہے بھی کہ نہیںروح تک آ تو گئے جسم سے ہم ہوتے ہوئے

صبح تا شام فقط صبر کی حد ناپتا ہوںروشنی دیکھتا رہتا ہوں میں کم ہوتے ہوئے

جہاں پہنچا نہیں جا سکتا وہاں پہنچے ہیںاپنے معلوم سے معدوم سے ہم ہوتے ہوئے

— شاہین عباس