10 اشعار

ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ

Ibtida sa kuch inteha sa kuch

ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ

«ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھچل تماشا کریں ذرا سا کچھ

سامنے سے یہ کائنات ہٹاؤہو رہا ہے مغالطہ سا کچھ

سر بسر ہوں سلامتی کے سرمیں ہوں رفتار و حادثہ سا کچھ

ایک خطرہ ہے آنے جانے میںاس سرا میں ہے دوسرا سا کچھ

چاک ادھڑتا ہے خاک اکھڑتی ہےکوئی ہوتا ہے رونما سا کچھ

اور تو کچھ نہیں ہے مٹنے کومیں ہی میں ہوں بنا بنا سا کچھ

یہ سرکتے ہوئے زمین پہ لوگیہ گنہ سا کچھ اور گلا سا کچھ

وقت پر آگ وقت پر پانیزندگی بھر کا تجربہ سا کچھ

جو نہ تیرا ہے اور نہ میرا ہےپھر وہ کیا ہے ترا مرا سا کچھ

جب خدا سا کوئی نہیں تو کیوںمسئلہ بن گیا خدا سا کچھ

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں