7 اشعار

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں

Naqsh tha aur naam tha hi nahin

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں

«نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیںیعنی میں اتنا عام تھا ہی نہیں

خواب سے کام تھا وہاں کہ جہاںخواب کا کوئی کام تھا ہی نہیں

سب خبر کرنے والوں پر افسوسیہ خبر کا مقام تھا ہی نہیں

تہ بہ تہ انتقام تھا سر خاکانہدام انہدام تھا ہی نہیں

ہم نے توہین کی قیام کیااس سفر میں قیام تھا ہی نہیں

اب تو ہے پر ہمارے وقتوں میںشیشۂ صبح و شام تھا ہی نہیں

وہ تو ہم نے کہا کہ تم بھی ہوورنہ کوئی نظام تھا ہی نہیں

— شاہین عباس