8 اشعار

اوپر جو پرند گا رہا ہے

Upar jo parind ga raha hai

اوپر جو پرند گا رہا ہے

«اوپر جو پرند گا رہا ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

اوپر جو پرند گا رہا ہےنیچے کا مذاق اڑا رہا ہے

مٹی کا بنایا نقش اس نےاب نقش کا کیا بنا رہا ہے

گھر بھر کو یہ طاقچہ مبارکخود چل کے چراغ آ رہا ہے

اب دوری حضوری کیا ہے صاحببس جسم کو جسم کھا رہا ہے

یہ وقت کا خاص آدمی تھابے وقت جو گھر کو جا رہا ہے

اب میں نہیں راہ میں تو رستہمیری جگہ خاک اڑا رہا ہے

اول وہ غلط بنانے والاآخر کو غلط مٹا رہا ہے

وہ قافلہ آ سکا نہیں کیوںرستہ بھی تو واں سے آ رہا ہے

— شاہین عباس