6 اشعار

اک یہی خواب گزشتہ کی نشانی رہ گئی

Ik yahī ḵẖwāb guzashta kī nishānī rah ga'ī

اک یہی خواب گزشتہ کی نشانی رہ گئی

«اک یہی خواب گزشتہ کی نشانی رہ گئی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

اک یہی خواب گزشتہ کی نشانی رہ گئیدل بہ دل دیکھیں تو کیسی بے زبانی رہ گئی

دن ڈھلے سب کشتیاں اوجھل ہوئیں آنکھوں سے اوردیکھتے رہنے کو دریا کی روانی رہ گئی

میرا رخ ہے ہر قدم ان دیکھے دروازوں کی سمتمیرے حصے میں یہ کیا نقل مکانی رہ گئی

جیسے کوئی خواب رکھا رہ گیا آنکھوں کے پاسجیسے بے آباد دل کی بیکرانی رہ گئی

ہاں قبائے جاں بدلنے سے بھی دن بدلے نہیںہاں نئے کپڑوں میں بھی خوشبو پرانی رہ گئی

انجم و مہتاب اپنا قصہ لے بیٹھے تھے راتاور پھر ایسا ہوا میری کہانی رہ گئی

— شاہین عباس