6 اشعار

پہلے تو اک چراغ کی آنکھوں میں ضم ہوئے

Pehle to ik chirāg̠h kī āñkhoñ mein ẓam hue

پہلے تو اک چراغ کی آنکھوں میں ضم ہوئے

«پہلے تو اک چراغ کی آنکھوں میں ضم ہوئے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

پہلے تو اک چراغ کی آنکھوں میں ضم ہوئےاور پھر شریک کار کہانی میں ہم ہوئے

پاؤں تلے سے درد کی سیڑھی سرک چکیاک عمر ہو گئی ہمیں قامت میں کم ہوئے

رہ رہ کے آ رہے تھے عقب میں جو چند سائےآخر زمین دل پہ مرے ہم قدم ہوئے

ان منظروں کے چلنے کو اک راہ بن گئیکیا راہرو روانہ سر چشم نم ہوئے

دونوں ہی منتظر تری موج خرام کےدریا ہوا کہ دور کنارے پہ ہم ہوئے

نکلے ہیں بار بار انہیں گلیوں کی دھول سےداخل جس ایک شہر میں ہم کم سے کم ہوے

— شاہین عباس