7 اشعار

اس گلی میں کچھ نہیں بس گھٹتا بڑھتا شور ہے

Is gali mein kuch nahin bas ghatta barhta shor hai

اس گلی میں کچھ نہیں بس گھٹتا بڑھتا شور ہے

«اس گلی میں کچھ نہیں بس گھٹتا بڑھتا شور ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

اس گلی میں کچھ نہیں بس گھٹتا بڑھتا شور ہےاک مکیں کی خامشی ہے اک مکاں کا شور ہے

شام شور انگیز یہ سب کیا ہے بے حد و حساباتنی آوازیں نہیں دنیا میں جتنا شور ہے

ایک مضموں ہے پر آپس میں سبق ملتا نہیںاپنی اپنی خامشی ہے اپنا اپنا شور ہے

نقل کرتی ہے مرے چلتے میں ویرانی مرییہ جو میرے شور پا سے ملتا جلتا شور ہے

میں یہ کیا یکتائے ہنگامہ ہوں اپنے چار سوکیا اکیلی ہا و ہو ہے کیسا تنہا شور ہے

خالی دل پھر خالی دل ہے خالی گھر کی بھی نہ پوچھاچھے خاصے لوگ ہیں اور اچھا خاصا شور ہے

سامنے کی یاد جڑتی ہے بہت پیچھے کہیںسب عقب سے آ رہا ہے آگے جتنا شور ہے

— شاہین عباس