5 اشعار

یہ خواب کیا ہے مری آنکھ میں ابھرتا ہوا

Ye khwab kya hai miri aankh mein ubharta hua

یہ خواب کیا ہے مری آنکھ میں ابھرتا ہوا

«یہ خواب کیا ہے مری آنکھ میں ابھرتا ہوا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

یہ خواب کیا ہے مری آنکھ میں ابھرتا ہواغبار اڑتا ہوا وقت سا گزرتا ہوا

وہ بے بسی ہے کہ ہر زخم بھر گیا جیسےمیں رو نہ دوں ترے زینے سے یوں اترتا ہوا

زمیں کے پاس بھی کوئی جواب ہے کہ نہیںیہاں تک آ تو گیا ہوں سوال کرتا ہوا

سپردگی کی ادا بھی ہے اور خبر بھی نہیںمیں کون ہوں تری آواز پر ٹھہرتا ہوا

ادھر وہ میرے اجالے کا منتظر ہے اورادھر میں اپنے ستارے پہ شام کرتا ہوا

— شاہین عباس