7 اشعار

جز دیدۂ تر نقش بنایا نہیں جاتا

Juz dīda-e-tar naqsh banāyā nahīñ jātā

جز دیدۂ تر نقش بنایا نہیں جاتا

«جز دیدۂ تر نقش بنایا نہیں جاتا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

جز دیدۂ تر نقش بنایا نہیں جاتارنگ اور کہیں مجھ سے جمایا نہیں جاتا

اب جیسا بھی انجام ہو اس کوزہ گری کامٹی سے مگر ہاتھ چھڑایا نہیں جاتا

یہ دل تو وہ دل ہے ہمیں مطلب نہیں جس سےیہ گھر تو وہ گھر ہے جہاں آیا نہیں جاتا

اگ آتی ہے دیوار خرابی سر صحرابن جاتا ہے گھر خود ہی بنایا نہیں جاتا

دل روزن دنیا سے نظر آئے تو آئےاس موج کو منظر پہ تو لایا نہیں جاتا

وحشت کی حدیں خاک سے ملتی نہیں افسوساک دشت ہے اور اس میں سمایا نہیں جاتا

ہم راہ سفر پیڑ جو تھے رہ گئے پیچھےجو سایہ سروں پر تھا وہ سایہ نہیں جاتا

— شاہین عباس