7 اشعار

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

Tujh mein kitna gum huuñ aur kitna nazar aatā huuñ maiñ

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

«تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میںآتے جاتے آئنوں کو منہ دکھا جاتا ہوں میں

اس کے بعد اگلی قیامت کیا ہے اگلا کام کیازخم سہلاتا تھا اور اب داغ دکھلاتا ہوں میں

انگلیوں پر پھول گن گن کر یہ نوبت آ گئیاپنی پوروں کو بھی اب پھولوں میں گن جاتا ہوں میں

دن ڈھلے کچھ دیر ڈھل جاتا بھی ہوں سورجؔ کے ساتھشام ہوتے ہی چراغوں سے ابھر آتا ہوں میں

خاکساری ہی نہیں یہ غم گساری بھی تو ہےپاؤں رکھتا ہوں جہاں مٹی اٹھا لاتا ہوں میں

جانے یہ معمار میرے ساتھ کر جائیں گے کیاخود کھڑا سر پر مکان خواب بنواتا ہوں میں

اک زمینی آسمانی نم میں ہوں بھیگا ہواایسی کیا ارض و سما سے بات منواتا ہوں میں

— شاہین عباس