7 اشعار

سرائے بود میں بہتا ہوں ڈھلتا جاتا ہوں

Saraye bood mein behta hoon dhhalta jaata hoon

سرائے بود میں بہتا ہوں ڈھلتا جاتا ہوں

«سرائے بود میں بہتا ہوں ڈھلتا جاتا ہوں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

سرائے بود میں بہتا ہوں ڈھلتا جاتا ہوںکوئی بلاتا نہیں اور میں چلتا جاتا ہوں

ابھی وہیں کا وہیں ہوں بدن کی گھاٹ پہ میںہزار پانی پہ پانی بدلتا جاتا ہوں

بہت رکی ہوئی شاموں میں چل رہا ہوں کہیںبہت بجھے ہوئے لوگوں میں جلتا جاتا ہوں

حجاب آب و ہوا سے ہٹا سکوں شایدمیں دست و پا پہ جو مٹی سی ملتا جاتا ہوں

ابھی میں ٹھیک کہیں بھی بپا نہیں ہوتاسو وحشتیں ہی نبھاتا ہوں ٹلتا جاتا ہوں

کوئی مکاں ہے جو بے دخل کر رہا ہے مجھےکوئی گلی ہے کہ جس سے نکلتا جاتا ہوں

یہ خواب دیکھنے والوں کا قافلہ ہے سو میںاسی غبار میں چپ چاپ چلتا جاتا ہوں

— شاہین عباس