5 اشعار

کبھی کبھی مری حیرت بڑھا بھی دیتا ہے

Kabhi kabhi miri hairat barha bhi deta hai

کبھی کبھی مری حیرت بڑھا بھی دیتا ہے

«کبھی کبھی مری حیرت بڑھا بھی دیتا ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

کبھی کبھی مری حیرت بڑھا بھی دیتا ہےکہ آئنہ مجھے تم سے ملا بھی دیتا ہے

خدا رکھے مرے سینے میں ہے جو روزن زخمضیا بھی دیتا ہے شب بھر ہوا بھی دیتا ہے

نظر رکھیں تو برابر رکھیں غم دل پریہ دل وگرنہ نظر سے گرا بھی دیتا ہے

ستارہ کھولتا ہے مجھ پہ میرا گھر سر شاماور اک چراغ کا مجھ کو پتہ بھی دیتا ہے

برا ہوا کہ ہم آ بیٹھے سایۂ دل میںخبر نہ تھی کہ یہ سایہ جلا بھی دیتا ہے

— شاہین عباس