7 اشعار

کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا

Kaisa kaisa dar-pas-e-deewar karna pad gaya

کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا

«کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیاگھر کے اندر اور گھر تیار کرنا پڑ گیا

اس کنارے نے کہا کیا کیا کہوں کیا بات تھیبات ایسی تھی کہ دریا پار کرنا پڑ گیا

پھر بساط خواب اٹھائی اور اوجھل ہو گئےشام کا منظر ہمیں ہموار کرنا پڑ گیا

اک ذرا سا راستہ مانگا تھا ویرانی نے کیااپنا سارا گھر ہمیں مسمار کرنا پڑ گیا

وہ کہانی وقت کا جس میں تصور ہی نہیںاس کہانی میں ہمیں کردار کرنا پڑ گیا

سرسری سمجھا تری آنکھوں کو ہم نے اور پھرسرسری چیزوں پہ بھی اصرار کرنا پڑ گیا

آخرش سب خواب اس منزل پہ پہنچے ہیں جہاںاپنی آنکھوں کا ہمیں انکار کرنا پڑ گیا

— شاہین عباس