7 اشعار

خامشی کی طرح تیری شام میں آنا مرا

Khāmoshī kī tarah terī shaam meñ aana mirā

خامشی کی طرح تیری شام میں آنا مرا

«خامشی کی طرح تیری شام میں آنا مرا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

خامشی کی طرح تیری شام میں آنا مراڈوبنا اک بار اور پھر ڈوبتے جانا مرا

ہم میں باغوں کی سی بے باکی کہاں سے آ گئییوں مہک اٹھنا تمہارا اور مہکانا مرا

تیری تنہائی کے سائے میں ہے تنہائی مریتیرے ویرانے کی سرحد پر ہے ویرانہ مرا

اپنی اپنی خامشی میں اپنے اپنے خواب میںمجھ کو دہرانا تمہارا تم کو دہرانا مرا

سب کا سب نقش نہایت جسم کیا اور اسم کیاتیرا یوں مجھ کو بنانا اور بن جانا مرا

چھوڑ آنا خود کو ان آنکھوں کے پردے میں کہیںدیکھنے پر بھی مجھے کم کم نظر آنا مرا

میرے یاں آنے سے تنہائی بڑھی ہے اور بھیاور خالی ہو گیا ہے آئنہ خانہ مرا

— شاہین عباس