7 اشعار

خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے

Khwab khulna hai jo aankhon pe woh kab khulta hai

خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے

«خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہےپھر بھی کہیے کہ بس اب کھلتا ہے اب کھلتا ہے

باب رخصت سے گزرتا ہوں سو ہوتی ہے شناختجس قدر دوش پہ سامان ہے سب کھلتا ہے

یہ اندھیرا ہے اور ایسے ہی نہیں کھلتا یہدیر تک روشنی کی جاتی ہے تب کھلتا ہے

میری آواز پہ کھلتا تھا جو در پہلے پہلمیں پریشاں ہوں کہ خاموشی پہ اب کھلتا ہے

اک مکاں کی بڑی تشویش ہے رہ گیروں کووہ جو برسوں میں نہیں کھلتا تو کب کھلتا ہے

اب کھلا ہے کہ چراغوں کو یہاں رکھا جائےیہ وہ رخ ہے جہاں دروازۂ شب کھلتا ہے

اس نے کھلنے کی یہی شرط رکھی ہو جیسےمجھ میں گرہیں سی لگا جاتا ہے جب کھلتا ہے

— شاہین عباس