9 اشعار

نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میں

Naqsh karta ram-o-raftaar inaangeer ko main

نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میں

«نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میںکیسا چھنکاتا ہوا چلتا ہوں زنجیر کو میں

غیب و غفلت کا ادھر جشن منا لوں تو چلوںابھی تاخیر سمجھتا نہیں تاخیر کو میں

خامشی میری کچھ ایسی ہدف آگاہ نہیںبات بے بات چلا دیتا ہوں اس تیر کو میں

ساتواں دن مگر اچھا نہیں گزرا میراچھ دن الٹاتا رہا پردۂ تعمیر کو میں

موج خوں مجھ سے بس اب شام کی دوری پر ہےکتنے دن اور بچا سکتا ہوں شمشیر کو میں

درمیاں میرا علاقہ ہے بتاؤں نہ بتاؤںایک تصویر کا دکھ دوسری تصویر کو میں

پھر وہ سطر آتی ہے جب اصل لکھی جاتی ہےمجھ کو تحریر مٹا آتی ہے تحریر کو میں

کہاں لے جانے کو تھی پاؤں کی زنجیر مجھےکہاں لے آیا مگر پاؤں کی زنجیر کو میں

نظم ہو بیٹھا ہوں آہنگ دروں کے ہاتھوںنظم کرتا ہوا اک نالۂ شبگیر کو میں

— شاہین عباس