7 اشعار

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے

Mauj-e-khoon pareshaan kahan jaata hai

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے

«موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہےمجھ سے آگے مرا طوفان کہاں جاتا ہے

میں تو جاتا ہوں بیابان نظر کے اس پارمیرے ہم راہ بیابان کہاں جاتا ہے

اب تو دریا میں بندھے بیٹھے ہیں دریا کی طرحاب کناروں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے

چائے کی پیالی میں تصویر وہی ہے کہ جو تھییوں چلے جانے سے مہمان کہاں جاتا ہے

داستاں گو کی نشانی کوئی رکھی ہے کہ وہداستاں گوئی کے دوران کہاں جاتا ہے

بات یوں ہی تو نہیں کرتا ہوں میں رک رک کرکیا بتاؤں کہ مرا دھیان کہاں جاتا ہے

گھر بدلنا تو بہانہ ہے بہانہ کر کےاندر اندر ہی سے انسان کہاں جاتا ہے

— شاہین عباس