7 اشعار

کسی آئنے پہ میں پھر نظر نہیں کر سکا

Kisī āīne pe maiñ phir nazar nahīñ kar sakā

کسی آئنے پہ میں پھر نظر نہیں کر سکا

«کسی آئنے پہ میں پھر نظر نہیں کر سکا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

کسی آئنے پہ میں پھر نظر نہیں کر سکاترے بعد کئی بھی عشق اثر نہیں کر سکا

اسے خاک پر سے گزرنا کتنا محال تھاترے خواب پر جو گزر بسر نہیں کر سکا

میں پلٹ کے آیا تو باغ خالی ملا مجھےمرا انتظار کوئی شجر نہیں کر سکا

شب ہجر جیسی رواں تھی ویسی رواں رہیمیں کوئی بھی لہر ادھر ادھر نہیں کر سکا

کوئی تم سے دور بھی تھا تمہارے حضور بھیمگر اس طرح کہ تمہیں خبر نہیں کر سکا

عجب انتشار سخن میں تھا ترے روبروسو میں اپنی بات کو مختصر نہیں کر سکا

مجھے پھر بھی دل کے ہی قافلے میں گنا گیامیں اگرچہ دل کی طرح سفر نہیں کر سکا

— شاہین عباس