7 اشعار

سفر زیست کا کم کم ہنر آتا ہے مجھے

Safar-e-zīst kā kam kam hunar aatā hai mujhe

سفر زیست کا کم کم ہنر آتا ہے مجھے

«سفر زیست کا کم کم ہنر آتا ہے مجھے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

سفر زیست کا کم کم ہنر آتا ہے مجھےبار سر اچھا ہے کھینچے لئے جاتا ہے مجھے

طائر جاں تو گیا اور گیا بھی اس پارجانے والا مگر اب تک نظر آتا ہے مجھے

زخم اک چوکھٹے میں جیسے مجسم ہو جائےمیں وہ تصویر کہ ہر رنگ رلاتا ہے مجھے

کوئی ریلا ہے سمے کا جو گراں ہے مجھ پرکوئی دریا ہے کنارے سے اٹھاتا ہے مجھے

آمد آمد ہے یہ کس عالم تنہائی کیایک اک زخم مرا چھوڑتا جاتا ہے مجھے

ہاں یہی خواب سفر ہے کہ نظر ہے جس پرہاں اسی گرد سفر میں نظر آتا ہے مجھے

پھر سے اک بار میں تصویر ہوا چاہتا ہوںپھر سر لوح نظر کوئی بناتا ہے مجھے

— شاہین عباس