6 اشعار

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا

Kuch nahin likha hua phir bhi paṛha jata hai kya

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا

«کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیاایسی ناموجود کو دنیا کہا جاتا ہے کیا

ہم سخن تیرے مخاطب کا پتا کیسے کروںبولنا تھا کیا تجھے اور بولتا جاتا ہے کیا

ایک دروازہ اور اندر دور تک کوئی نہیںآتے جاتے جھانک لینے سے ترا جاتا ہے کیا

اس اندھیرے میں پڑے اک شخص کو دیکھا کبھیپاؤں سے ٹکرائے تو بانہوں میں آ جاتا ہے کیا

ہم ادھر ہیں حشر اٹھا دیتے ہیں جب اٹھتی ہے لہرتم ادھر ہو ہاتھ اٹھا دو سب سنا جاتا ہے کیا

میں کہ تیرا تیسرا غم ہوں سو یہ غم بھی تو کرتو کہ بس ہونے نہ ہونے پر مرا جاتا ہے کیا

— شاہین عباس