7 اشعار

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

Kuchh bhī na jab dikhā.ī de tab dekhtā huuñ maiñ

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

«کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میںپھر بھی یہ خوف سا ہے کہ سب دیکھتا ہوں میں

آنکھیں تمہارے ہاتھ پہ رکھ کر میں چل دیااب تم پہ منحصر ہے کہ کب دیکھتا ہوں میں

آہٹ عقب سے آئی اور آگے نکل گئیجو پہلے دیکھنا تھا وہ اب دیکھتا ہوں میں

یہ وقت بھی بتاتا ہے آداب وقت بھیاس ٹوٹتے ستارے کو جب دیکھتا ہوں میں

اب یاں سے کون دے مری چشم طلب کو دادجس فاصلے سے باب طلب دیکھتا ہوں میں

ان پتلیوں کا قرض چکاتا ہوں کیا کروںبس دل سے دل ملاتا ہوں جب دیکھتا ہوں میں

ناکام عشق ہوں سو مرا دیکھنا بھی دیکھکم دیکھتا ہوں اور غضب دیکھتا ہوں میں

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں