6 اشعار

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

Tujh mein kitna gum hoon aur kitna nazar aata hoon main

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

«تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میںآتا جاتا آئنوں کو منہ دکھا جاتا ہوں میں

اس کے بعد اگلی قیامت کیا ہے کس کو ہوش ہےزخم سہلاتا تھا اور اب داغ دکھلاتا ہوں میں

نقش بر دیوار ہوں اور بات کر سکتا نہیںایسی حالت میں بھی جو کہتا ہوں منواتا ہوں میں

خاکساری ہی نہیں یہ غم گساری بھی تو ہےپاؤں رکھتا ہوں جہاں مٹی اٹھا لاتا ہوں میں

حرف کے آوازۂ آخر کو کر دیتا ہوں نظمشعر کیا کہتا ہوں خاموشی کو پھیلتا ہوں میں

دن ڈھلے کچھ دیر ڈھل جاتا بھی ہوں سورج کے ساتھشام ہوتے ہی چراغوں سے ابھر آتا ہوں میں

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں