8 اشعار

سر جڑا سایہ جڑا اس دور کی دیوار سے

Sar juṛā sāya juṛā is daur kī dīvār se

سر جڑا سایہ جڑا اس دور کی دیوار سے

«سر جڑا سایہ جڑا اس دور کی دیوار سے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

سر جڑا سایہ جڑا اس دور کی دیوار سےآخری دروازہ نکلا آخری دیوار سے

تب تو یہ دیوار اونچی تھی کہ جب بارش گریپھر میں اونچا ہو گیا اس ڈوبتی دیوار سے

یہ جو دل سینے میں ہے جو خواب روزینے میں ہےجیسے کئی لگ کے بیٹھا ہو تری دیوار سے

شہر کا آغاز تھا اور شہر ہی ملتا نہ تھامیں الجھ کر گر پڑا اک ملگجی دیوار سے

مل ملا کر عشق کا اک تجربہ ثابت کیاکچھ نمی دل میں سے نکلی کچھ نمی دیوار سے

دامن اچھا تھا کہ یہ سب داغ اچھے ہیں بتاؤکیوں جڑے بیٹھے ہو اس مٹی بھری دیوار سے

یوں ملا دیجے ہمیں جیسے ملا دیتی ہے شاموقت کی دیوار کو بے وقت کی دیوار سے

ایک اینٹ اور ایک رخنہ ایک رخنہ ایک اینٹچھاؤں بھی دیوار سے ہے دھوپ بھی دیوار سے

— شاہین عباس