8 اشعار

تیری خاموشی کو آنکھوں سے لگائے ہوئے ہیں

Teri khamoshi ko aankhon se lagaye hue hain

تیری خاموشی کو آنکھوں سے لگائے ہوئے ہیں

«تیری خاموشی کو آنکھوں سے لگائے ہوئے ہیں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

تیری خاموشی کو آنکھوں سے لگائے ہوئے ہیںروبرو ہم تری تصویر کے آئے ہوئے ہیں

دو الگ وقتوں میں اک ساتھ دھڑکتے ہوئے دلاے زمیں تیرے کناروں کو ملائے ہوئے ہیں

وہ جو دیکھے سے بھی دیکھے نہیں جاتے وہی خوابمیرے دیکھے ہوئے ہیں تیرے دکھائے ہوئے ہیں

آنکھ ایسے ہے کہ جیسے ابھی آتا ہے کوئیہاتھ ایسے ہیں کہ بس پھول اٹھائے ہوئے ہیں

نقش دل پر ہے کہ دیوار پہ معلوم نہیںیوں بنانے کو تو تصویر بنائے ہوئے ہیں

باغ دل دیکھنے والا ہے کہ اس باغ کے ہمپھول ہیں اور بہاروں کے رلائے ہوئے ہیں

تم کہ آئندہ کی صورت میں تھے اوجھل اوجھلہم تمہیں لمحۂ موجود میں لائے ہوئے ہیں

عشق یہ اور کسی کا تھا جو کرنا پڑا ہےہم کسی اور کا سامان اٹھائے ہوئے ہیں

— شاہین عباس