17 اشعار

بدلتے ناموں کی داستانیں

Badalte naamon ki daastanein

بدلتے ناموں کی داستانیں

«بدلتے ناموں کی داستانیں» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

دمکتے سورج کی آنکھ کھلنے کا وقت آیازمیں کے لاوے نے کروٹیں لیں

فلک نے دیکھا تو کانپ اٹھایہ سرپھرے لوگ کون سے ہیں ہوا نے پوچھا

سنے ہوئے عزم کے نشان ان کے زرد چہروں پہ کھل اٹھے ہیںیہ لوگ دن رات جاگتے ہیں

یہ چاہتے ہیں کہ زرد مٹی پہ سرخ پھولوں کی بارشیں ہوںزمیں کی وسعت پہ قریہ قریہ محافظوں کی الگ زمیں ہو

زمیں کے بے تاج بادشاہوں نے ہم کو لوٹا ہے قریہ قریہہماری جھولی میں بھیک ڈالی ہے

بھیک میں واہمے دیے ہیںیہ واہمے ہی ہمارے گھر ہیں

ہم ان گھروں میں کئی زمانوں سے رہ رہے ہیںگھروں کی دیواریں رفتہ رفتہ سمٹ رہی ہیں

چھتیں دھماکوں سے پھٹ رہی ہیںہم ان کے ملبے میں دب رہے ہیں

قرن قرن جاں بہ لب رہے ہیںپھر اب تو یہ عہد کر لیا ہے

یہ گھر رہیں گے یا ہم رہیں گےکبھی نہ دونوں بہم رہیں گے

زمیں پہ سیلاب آنے والا ہےاس میں پوشیدہ وہ اجالا ہے

جس سے صدیوں کی تیرگی پر نشے افق کی نظر پڑے گیاسی اجالے کی وسعتوں میں وہ روز ہے جس کی ایک جنبش

ہر ایک دیوار توڑ دے گیلہو ستم کا نچھوڑ دے گی

وہ گھر بھی مٹی پہ آ رہیں گےجو گھر نہیں ہیں ہمارے زنداں ہیں

جن کی تختی بدلتی رہتی ہےنام ان کے ہزار رکھے گئے ہیں

پھر بھی ہوس کے زنداں تو ایک جیسے ہیںایک زنجیر ہی کی کڑیاں

الگ الگ بھی ہیں ایک بھی ہیں

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں