9 اشعار

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

Charagh khud hi bujhaya bujha ke chhod diya

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

«چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیاوہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائبیہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتااسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا

میں جا چکا ہوں مرے واسطے اداس نہ ہومیں وہ ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا

کسی نے یہ نہ بتایا کہ فاصلہ کیا ہےہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا

ہمارے دل میں ہے کیا جھانک کر نہ دیکھ سکےخود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا

وہ تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہےاسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا

وہ انجمن میں ملا بھی تو اس نے بات نہ کیکبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا

رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں شہزادؔخدا نے بھی تو زمیں پر گرا کے چھوڑ دیا

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں