11 اشعار

وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو

Woh mere paas hai kya paas bulaaun us ko

وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو

«وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کودل میں رہتا ہے کہاں ڈھونڈنے جاؤں اس کو

آج پھر پہلی ملاقات سے آغاز کروںآج پھر دور سے ہی دیکھ کے آؤں اس کو

قید کر لوں اسے آنکھوں کے نہاں خانے میںچاہتا ہوں کہ کسی سے نہ ملاؤں اس کو

اسے دنیا کی نگاہوں سے کروں میں محفوظوہ وہاں ہو کہ جہاں دیکھ نہ پاؤں اس کو

چلنا چاہے تو رکھے پاؤں مرے سینے پربیٹھنا چاہے تو آنکھوں پہ بٹھاؤں اس کو

وہ مجھے اتنا سبک اتنا سبک لگتا ہےکبھی گر جائے تو پلکوں سے اٹھاؤں اس کو

مجھے معلوم ہے آخر کو جدا ہونا ہےلیکن اک بار تو سینے سے لگاؤں اس کو

یاد سے اس کی نہیں خالی کوئی بھی لمحہپھر بھی ڈرتا ہوں کہیں بھول نہ جاؤں اس کو

مجھ پہ یہ راز اسی ایک حوالے سے کھلابات اس کی ہے مگر کیسے بتاؤں اس کو

یہ مرا دل مرا دشمن مرا دیوانہ دلچاہتا ہے کہ سبھی زخم دکھاؤں اس کو

آج تو دھوپ میں تیزی ہی بہت ہے ورنہاپنے سائے سے بھی شہزادؔ بچاؤں اس کو

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں