7 اشعار

شب غم کو سحر کرنا پڑے گا

Shab-e-Gham ko sahar karna paṛe ga

شب غم کو سحر کرنا پڑے گا

«شب غم کو سحر کرنا پڑے گا» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

شب غم کو سحر کرنا پڑے گاقیامت تک سفر کرنا پڑے گا

سوا نیزے پہ سورج آ گیا ہےیہ دن بھی اب بسر کرنا پڑے گا

یہ آنکھیں سیپیاں ہیں اس لئے بھیہر آنسو کو گہر کرنا پڑے گا

بہت لوٹا ہے دل کو آگہی نےاسے اب بے خبر کرنا پڑے گا

کہاں تک در بدر پھرتے رہیں گےتمہارے دل میں گھر کرنا پڑے گا

ستارے کج روی پر آ گئے ہیںجہاں زیر و زبر کرنا پڑے گا

محبت کام ہی ایسا ہے شہزادؔنہ چاہیں گے مگر کرنا پڑے گا

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں