10 اشعار

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

Jo shajar sookh gaya hai woh hara kaise ho

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

«جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہومیں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو

دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کینور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو

جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیںاور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو

عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتیہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیا کیسے ہو

جس سے دو روز بھی کھل کر نہ ملاقات ہوئیمدتوں بعد ملے بھی تو گلا کیسے ہو

دور سے دیکھ کے میں نے اسے پہچان لیااس نے اتنا بھی نہیں مجھ سے کہا کیسے ہو

وہ بھی اک دور تھا جب میں نے تجھے چاہا تھادل کا دروازہ ہے ہر وقت کھلا کیسے ہو

جب کوئی داد وفا چاہنے والا نہ رہاکون انصاف کرے حشر بپا کیسے ہو

آئنے میں بھی نظر آتی ہے صورت تیریکوئی مقصود نظر تیرے سوا کیسے ہو

کن نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہوں شہزادؔمجھ کو معلوم نہیں اس کو پتا کیسے ہو

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں